بجٹ21-2020: ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے 20 ارب مختص

وفاقی حکومت نے 12 جون کو 71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس پر ماہرین اور عوام نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔رواں سال جہاں وفاقی حکومت نے ٹڈی دل اور کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے خصوصی فنڈز کا اعلان کیا، وہیں تعلیم، صحت اور دفاع سمیت کئی شعبوں کے بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔رواں سال وفاقی حکومت نے بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی، ای گورننس اور نوجوانوں کے لیے خصوصی منصوبوں کے لیے بھی بجٹ مختص کیا ہے۔بجٹ21-2020 کو وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے پیش کیا، اس دوران اپوزیشن کی جماعتوں نے احتجاج بھی جاری رکھا۔حکومت نے رواں سال سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی ترقی اور ان کے مختلف منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے کے فنڈ تجویز کیے ہیں۔بجٹ پیش کرتے وقت حماد اظہر نے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بات کرت ہوئے کہا کہ امرجنگ ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے تحقیقی اداروں کی صلاحیت اور گنجائش کو بڑھانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ ای گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز، 5 جی سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے، جس وجہ سے ان منصوبوں کے لیے حکومت نے 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

ای گورننس

حکومت نے جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے بجٹ مختص کیا، وہیں حکومت نے ای گورننس کے فروغ کے لیے بھی خصوصی بجٹ اور فنڈز کا اعلان کیا۔وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ای گورننس کے ذریعے حکومت کا پبلک سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے جو وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے۔ان کے مطابق وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔

فوڈ سیکیورٹی

علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی الگ 12 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔فوڈ سیکیورٹی کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کو تحفظ خوراک سمیت فوڈ سیکیورٹی کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

کامیاب نوجوان

حکومت نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود و ترقی کے پروگرام کامیاب نوجوان کے لیے بھی 2 ارب روپے کا بجٹ جاری کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں