ایٹمی دھماکے، گوہر ایوب، راجا ظفرالحق اور میں نے کروائے، شیخ رشید کا دعویٰ

وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور راجا ظفرالحق نے کروائے ہیں جبکہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سمیت کابینہ کے تمام اراکین ان دھماکوں کے مخالف تھے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس لیے کررہا ہوں تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو معلوم رہے.ان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت نے اس پر کام کیا لیکن اس وقت کابینہ میں صرف شیخ رشید، گوہر ایوب اور راجا ظفرالحق نے خطاب کر کے کابینہ کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔جوہری دھماکوں کے موقع پر بیرونِ ملک موجودگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’میری ڈیوٹی ایسی تھی کہ مجھے ملک سے باہر جانا تھا اور جن لوگوں کے پاس دھماکوں کا ڈیٹا تھا ان میں میں بھی شامل تھا‘۔شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ وہ آج کل ایک کتاب بھی لکھ رہے ہیں ساتھ ہی ان کا کہنا کہ جب جوہری حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف مسائل پیدا ہوئے تو میں واحد شخص اور سیاسی ورکر تھا جو ایران گیا اور کرنل قذافی سے بھی میں نے ہی ملاقات کی تھی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر ریلوے نے کہا کہ ’جب سے میں پیدا ہوا ہوں میرے پیچھے ایجنسیز لگی رہتی ہیں لیکن ایجنسیوں سے مجھے خوشی ہوتی ہے‘۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا کے بعد دنیا میں بہت کشیدگی پیدا ہونے کے امکان ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تناؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور 72 گھنٹوں کے دوران پاک فوج نے 2 ڈرون طیارے گرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار جس طرح کورونا کو روکنے میں ناکام ہوئی اور لداخ میں کے ساتھ جس صورتحال سے گزری ہے وہ نریندر مودی اور بھاتی دفاع کے حکام کے لیے ندامت کا باعث ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر پاکستان کی سرحدوں میں اگر ہمیں کسی نے للکارا تو یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری جنگ ہے۔ان کا کہان تھا کہ ہمزمہ دار قوم ہے وزیراعظم نے ملک کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی جہت عطا کی ہے اور آج صرف چین ہی سے نہیں بلکہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے ساتھ بھی حکومت کے اچھے تعلقات ہیں لیکن چین ہمارا ہمالیہ سے بلند دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی تعریف میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ریلوے نے گزشتہ 2 سال کے دوران 5 روپے کی بھی خریداری نہیں کی جبکہ سلمان، قاسم او راجا روتے ہی یہ ہیں کہ پیسا نہیں ہے۔وزیر ریلوے نے بتایا کہ کورونا بحران کے دوران ایک ہزار 56 ویگنوں کو ٹھیک کیا ہے، 40 ٹرینیں چلائی ہیں لیکن ابھی 100 ٹرینیں چلانے کی صلاحیت نہیں کیوں کہ جن چھوٹے اسٹیشنز پر یہ ٹرین جاتی ہیں وہاں کورونا سے حفاظت کے آلات نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ایس او پیز پر مکمل عمل کریں گے اور 142 میں 40 ٹرینیں کھول رہے ہیں اور لوگوں کو ٹکٹس دینے کی ہدایت کردی ہے کیوں کہ متعدد افراد کو آن لائن ٹکٹنگ کی سمجھ ہی نہیں۔اشیخ رشید کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے آن لائن ٹکٹ خریدنے کی کوشش کی کہ سسٹم ہی بیٹھ گیا جس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں