ایک دہائی بعد امریکی سرزمین سے خلاباز خلا میں جانے کے لیے تیار

امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا نجی خلائی تحقیقی ادارے اسپیس ایکس کے تعاون سے تقریباً ایک دہائی بعد 27 اور 28 مئی کی درمیانی شب امریکی سر زمین سے پہلی بار عالمی خلائی اسٹیشن کی جانب 2 خلانوردوں کو روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس سے قبل امریکی سرزمین سے آخری بار 2011 میں خلانوردوں کو عالمی خلائی اسٹیشن بھیجا گیا تھا، جس کے بعد امریکی سر زمین سے یہ سروس بند کرکے روس کے حوالے کی گئی تھی اور خلانوردوں کو قازقستان سے خلائی اسٹیشن بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔لیکن اب ناسا ایک نجی کمپنی اسپیس ایکس کی مدد سے تقریباً ایک دہائی بعد امریکی سر زمین سے خلانوردوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے تیار ہے۔امریکی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس 2008 میں امریکی سرزمین سے راکٹ لانچ کرنے والی پہلی نجی کمپنی بنی تھی اور ساتھ ہی ناسا کے ساتھ دو طرح کے کنٹریکٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی، جس میں پہلا کام تو یہ تھا کہ اسپیس ایکس عالمی خلائی اسٹیشن میں موجود خلابازوں کے لیے کھانا اور کچھ ضروری سامان کی ترسیل کا کام سر انجام دیں گے اور کام کو کمرشل ریسپلائی سروسز’ (سی آر ایس) کا نام دیا گیا۔اس کمپنی کو ناسا کی طرف سے دوسرا کام یہ سونپا گیا کہ اس نے 2017 تک امریکی سرزمین سے امریکی خلابازوں کو عالمی خلائی اسٹیشن تک پہنچانا تھا، کیوں کہ اس سے قبل خلابازوں کو امریکا کے اسپیس شٹل مشن راکٹ کے ذریعے امریکی سرزمین سے روانہ کیا جاتا تھا مگر اس مشن کو کچھ وجوہات کی بنا پر2011 میں بند کردیا گیا تھا، جس کے بعد خلابازوں کو عالمی خلائی اسٹیشن تک پہنچانے کی ذمہ داری روس کے سویز راکٹس کو دی گئی تھی۔اسپیس ایکس 2015 تک اپنے فالکن 9 راکٹس کی مدد سے ڈریگن خلائی گاڑی کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن تک سامان پہنچانے میں مصروف تھی کہ 28 جون 2015 کو ‘کمرشل ریسپلائی سروسز’ کا ساتواں راکٹ لانچ ہوتے ہی آسمان میں پھٹ گیا جس کی وجہ سے بہت سی کمپنیز کا اسپیس ایکس پر سے اعتماد اٹھنے لگا لیکن اسی سال دسمبر میں اسپیس ایکس نے راکٹ کو اڑانے اور پھر اس کے حصوں کو سمندر میں ضائع کرنے کے بجائے ایک ایسی تکنیک متعارف کروائی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ہم جانتے ہیں کہ راکٹ کے دو حصے ہوتے ہیں جس میں سے نچلے حصے کو اسٹیج ون کہا جاتا ہے اور اسے اسٹیج 2 کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، یہ اسٹیج ون بلندی پر جاکر اسٹیج 2 سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور کشش ثقل کی وجہ سے زمین کی طرف گرنے لگتا ہے۔اسٹیج ون کی اطراف میں لگے تھرسٹرز اسے نیچے لاتے وقت ایک سمت یعنی سیدھا رکھتے ہیں، ہمیں فزکس کے کشش ثقل کے قانون سے یہ بات بھی معلوم ہے کہ کشش ثقل میں جو چیز اونچائی سے گرتی ہے تو نیچے آتے آتے اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، اسی لیے اسٹیج ون جیسے جیسے نیچے آتا ہے تو اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لیے اچانک گر کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ان کے انجن سے پریشر پیدا کیا جاتا ہے جس نے زمین سے کچھ میٹر کی بلندی پر ان کی رفتر انتہائی کم ہوجاتی ہے جس کے بعد اس کے نچلے حصے پر لگے اسٹینڈز کھلتے ہیں اور یوں اس کی آرام دہ لینڈنگ ہوجاتی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راکٹ کی تیاری کی نصف رقم راکٹ کے اسٹیج ون کی تیاری میں لگ جاتی ہے اور راکٹ کے اس حصے کی تباہی سے بہت زیادہ نقصان ہوتا تھا، جس وجہ سے امریکی کمپنی اسپیس ایکس نے اس کا توڑ نکالنے کے لیے نیا فارمولا پیش کیا۔اسسپیس ایکس کا اہم ہدف دنیا کو سستے خلائی سفر سے مستفید کروانا اور انسانوں کو سیارہ مریخ پر بسانا ہے بھی ہے، اس لیے سال 2015 سے پہلے اسپیس ایکس کئی سال سے سستی ٹیکنالوجی کی جانج پڑتال کررہی تھی اور طویل کوششوں کے بعد جب کمپنی نے فالکن 9 راکٹس متعارف کروائے تو لوگ حیران رہ گئے، ان راکٹس کے بیشتر حصے دوبارہ استعمال میں لائے جاسکتے ہیں، اس تکنیک سے کم پیسوں میں کوئی بھی ملک اپنی سیٹلائٹ زمین کے گرد مدار میں بھیج سکتا ہے۔اسپیس ایکس کی اسی تکنیک کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں خوب پذیرائی ملی جس کے بعد دنیا کی مختلف خلائی ایجنسیوں نے اسپیس ایکس کا رخ کیا جس کے بعد یہ کمپنی دنیا کے سب سے بڑے راکٹ ‘فالکن ہیوی’ کی تیاری میں مصروف ہوگئی، جسے مئی 2018 میں اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی دوسری کمپنی، ٹیسلا موٹرز، کی تیار کردہ ایک تیز ترین الیکٹرک گاڑی لے کر خلا میں بھیجا گیا اور وہ گاڑی آج بھی سورج کے گرد خلا میں چکر لگا رہی ہے۔اسپیس ایکس کامیابیاں سمیٹتی اب پچھلے کچھ سال سے اپنے راکٹ سسٹم کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ امریکی خلابازوں کو اسپیس ایکس کی ڈریگن خلائی گاڑی میں عالمی خلائی اسٹیشن کی طرف روانہ کرنے کے دوران کوئی ناگہانی آفت نہ آئے۔اسپیس ایکس نے اپنے 2 راکٹس میں لگے اسکیپ سسٹم کو 28 مئی 2020 کو ایسٹرن ڈیلائٹ ٹائم کے مطابق دوپہر 3 بج کر 32 منٹ پر امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 اور 28 مئی کی درمیانی شب ایک بج کر 32 منٹ پر ہوگا۔اس اسکیپ سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اگر اتفاق سے خلا پر جانے کے دوران درمیان میں ہی راکٹ کے اسٹیجز میں خرابی ہوجاتی ہے تو اس میں موجود ڈریگن خلائی گاڑی خود کو راکٹ سے الگ کرکے خلابازوں کو لے کر زمین پر واپس آسکتی ہے اور ساتھ ہی اس سسٹم موجود لانچ ابورٹ سسٹم کی مدد سے ڈریگن خلائی گاڑی میں بیٹھے خلابازوں کو کچھ نہیں ہوگا اور وہ پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر آسکیں گے۔امریکا اس لیے بھی اس سسٹم کو متعارف کرانے پر اتنا خوش ہے کیوں کہ 2011 میں اسپیس شٹل راکٹ سسٹم کے بند ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکی خلاباز باب بہنکن اور ڈو ہرلے ڈریگن خلائی گاڑی میں امریکی سرزمین سے ہی خلا کی جانب روانہ ہوں گے۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ مذکورہ دونوں خلابازوں کو کورونا وائرس کے پیش نظر 3 ہفتے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور یہ اس لیے کیا گیا کہ اگر ان خلابازوں کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن میں موجود روسی اور امریکی خلابازوں تک یہ وائرس پہنچ گیا تو وہاں کورونا وائرس کی طبی سہولیات فراہم کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں