نیویارک میں پہلی بار دو پالتو بلیوں میں کورونا کی تشخیص

عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی امریکی ریاست نیوریاک میں دو پالتو بلیوں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔امریکی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق یہ بات اب تک واضح نہیں ہوپائی کہ ان جانوروں سے انسانوں میں یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے یا نہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ دونوں بلیاں نیویارک نیویارک کے دو الگ علاقوں میں تھیں، ان دونوں کو ہی سانس لینے میں تکلیف ہوئی جس کے بعد ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔حکام کے مطابق ہوسکتا ہے کہ یہ دونون بلیاں اپنے گھروں میں یا پڑوس میں موجود لوگوں کی وجہ سے اس وائرس کا شکار ہوئی ہوں۔ڈاکٹر اینتھونی کا کہنا تھا کہ ’جانور بھی کورونا وائرس کا شکار بن سکتے ہیں تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ وائرس ان جانوروں سے انسانوں میں بھی منتقل ہوسکتا ہے‘۔دنیا بھر میں اب تک پالتو جانوروں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے ایک دو کیسز ہی سامنے آئے ہیں۔امریکی ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ہانگ کانگ میں پلی میں کورونا کی تشخیص کا ایک کیس حال ہی میں سامنے آیا تھا، البتہ اس میں بلی میں کورونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔جبکہ بیلجیم کی ایک بلی بیمار پڑنے کے 9 روز بعد ہی صحتیاب ہوگئی۔خیال رہے کہ نیویارک کے چڑیا گھر میں موجود 5 چیتوں اور 3 شیر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔چڑیا گھر کی انتظامیہ نے بتایا کہ عملے کے ایک فرد سے ان جانوروں میں کورونا وائرس منتقل ہوا، البتہ اب ان کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر نظر آرہی ہے۔دوسری جانب ایجنسی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے پالتو جانوروں سے تقریباً دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔خیال رہے کہ چین کے شہر ہاربن میں موجود جانوروں کی بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ادارے ہاربن ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی جانب سے کم تعداد کے جانوروں پر کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کورونا وائرس بلیوں، کتوں، سور، بطخوں اور مرغے و مرغیوں کو بھی ہوسکتا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ماہرین نے بلیوں، بطخوں اور کتوں سمیت دیگر جانوروں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کے ہائی ڈوز انجیکشن لگائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں وبا کی کتنی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور جانور اس سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ماہرین نے بتایا تھا کہ بلیوں کو بھی ایک دوسرے سے کورونا وائرس لگ سکتا ہے اور وہ اچھی خاصی بیمار بھی ہوسکتی ہیں، تاہم بلیوں کے مالکان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ انسانوں کی طرح شدید بیمار نہیں ہوں گی۔واضح رہے کہ نیویارک شہر اس وقت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے، جہاں پر مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 15 ہزار تک جا پہنچی ہے۔صرف نیویارک شہر کے ہی متاثرہ افراد یا ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی چین میں متاثر ہونے اور ہلاک ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوچکی ہے۔نیویارک سمیت امریکا بھر میں 23 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8 لاکھ 55 ہزار 255 جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 47 ہزار 973 ہو چکی تھی۔اسی طرح دنیا بھر میں 23 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 26 لاکھ 28 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ سے متجاوز ہو چکی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں