کورونا وائرس کا خوف، ہیکرز فائدہ اٹھانے لگے

دنیا بھر میں ہیکرز کی جانب سے نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کو فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ان کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے کے دوران اس وبا سے متعلق ایک کروڑ 80 لاکھ مشتبہ ای میلز جی میل پر روزانہ بلاک کی ہیں۔گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ان ای میلز میں میل وئیر یا نقصان دہ لنکس موجود تھے اور یہ کووڈ 19 سے متعلق 24 کروڑ اسپام ای میلز سے الگ ہیں، جن کو یہ کمپنی روزانہ دیکھ رہی ہے۔بلاگ میں بتایا گیا کہ ان میں کچھ ای میلز میں ڈر اور مالی مراعات کا لالچ دیا جاتا ہے تاکہ صارف کو فوری ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔کچھ ای میلز میں ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ کسی حکومتی یا بین الاقوامی ادارے جیسے عالمی ادارہ صحت کی ہیں تاکہ صارف عطیات ان فراڈ ہیکرز کو دے یا میل وئیر انسٹال کرلے۔کچھ ای میلز میں چھوٹے کاروباری اداروں کو اقتصادی پیکجز کے ذریعے ٹھگنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دیگر ہیکرز گھر سے کام کرنے والے افراد کی ذاتی تفصیلات چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسی ایک ای میل کا نمونہ، فوٹو بشکریہ گوگل
ایسی ایک ای میل کا نمونہ،

گوگل کا کہنا تھا کہ ہمارے مشین لرننگ ماڈلز ان خطرات کو سمجھنے اور فلٹر کرنے کا کام کررہے ہیں اور ہم 99.9 فیصد اسپام اور میل وئیر پر مشتمل ای میلز کو صارفین تک پہنچے سے روک رہے ہیں۔کمپنی کی جانب سے صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ وہ بیشتر ای میلز کو بلاک کررہی ہے مگر پھر بھی کچھ تعداد میں یہ پیغامات ان تک پہنچ سکتے ہیں، جن میں پیکرز اس وبا کے حوالے سے موجود خوف اور غیریقینی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔گوگل نے مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم افراد کی ای میلز میں سے فائلز کو ڈائون لوڈ نہ کریں اور کسی لنک پر کلک کرنے سے پہلے کوشش کریں کہ اس کے مستند ہونے کی تصدیق کریں اور کسی صورت لاگ ان تفصیلات دینے سے گریز کریں۔انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہیکرز کی جانب سے کورونا وائرس کے بحران کو فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور دنیا بھر میں ہیکنگ کے خطرات میں ایک ماہ کے دوران 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اب تک صرف امریکا میں ہی لوگوں کو کورونا وائرس سے متعلق فراڈ کے ذریعے آن لائن ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں