کوئی سمجھتا ہے کہ ہمارے ملک میں وائرس دنیا سے کم ہے تو وہ غلط ہے، وزیر اعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا سمجھ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں وائرس دنیا سے کم ہے تو وہ غلط ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس ٹیسٹ کٹس آگئی ہیں اور ہم ٹیسٹنگ تیزی سے بڑھائیں گے اور اب تک صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد 1500 تک لے آئے ہیں جبکہ اس سے قبل 500 سے 600 ٹیسٹ ہورہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے اب تک 16 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ 10 فیصد ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں کہ جو ہسپتال پہنچتے ہی مردہ قرار دے دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کافی کیسز ایسے ہیں جو ہمیں لگتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کے ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’حیدر آباد میں تبلیغی جماعت کے 122 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 110 صحت یاب ہوچکے ہیں جس کے بعد انہیں اپنے آبائی اضلاع میں بھیجا جارہا ہے جبکہ ان میں چند غیر ملکی ہیں اور رائیونڈ انتظامیہ سے بات کرکے انہیں بھی واپس بھیجیں گے‘۔

’اموات کی شرح 2.4 فیصد‘

انہوں نے بتایا کہ ’سندھ میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح 2.4 فیصد ہے جبکہ 5 ہزار افراد کو آئی سولیشن میں رکھا ہوا ہے‘۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے تشویش ہے کہ ہمارے یہاں ہلاکتوں کی تعداد کی صحیح رپورٹنگ ہورہی ہے یا جبکہ کیسز دنیا میں سامنے آنے والے رجحان کے برابر ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارا ملک ایک ہی طرز پر چلے تو اس کے زیادہ فوائد ہوں گے، یہ بات وفاقی حکومت سے کہی تھی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ 14روز کا لاک ڈاؤن مزید ہوگا‘۔

’کوئی مسئلہ ہے تبھی لاک ڈاؤن بڑھایا ہے‘

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہے تبھی لاک ڈاؤن بڑھایا ہے، پورے پاکستان میں مزید سخت لاک ڈاؤن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ڈبل سواری کی سڑکوں پر اجازت نہیں ہوگی، صبح 8 سے 5 بجے تک دکانیں کھولنے پر ہی عمل کریں گے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’وفاقی حکومت سے ایس او پیز پر معاہدہ ہوا ہے ہم سندھ میں اس کے نفاذ کے جواب دہ ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کے تحت ملازمین کو فیکٹری تک لانے کے لیے اپنی ٹرانسپورٹ کے انتظامات، اورانتظامیہ کو ان کی فہرست دیا جائے گا‘۔انہوں نے کہا کہ بسوں کو ایک تہائی ہی بھریں گے اور اس پر اداروں کا نام بھی لکھا ہوگا تاکہ انتظامیہ کو پتہ لگ سکے کہ یہ کونسی کمپنی کی بس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے آنے کا وقت الگ الگ ہوگا، ادارے کے باہر ایس او پیز لکھی ہوں گی، وہاں ڈاکٹر کی موجودگی کو یقینی بنایا جانا بھی شامل ہے۔

’ایس او پیز پر عمل در آمد کرائیں گے‘

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی جان بچانے کے لیے سندھ میں جتنی طاقت ہے ان ایس او پیز پر عمل در آمد کرائیں گے اور امید ہے کہ تمام صوبے بھی ایسا ہی کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’تعمیرات کو کھولنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تاہم تجویز ہے کہ صوبائی حکومتیں جب تک ایس او پیز پر پوری طرح سے عمل در آمد نہیں ہوتے اسے نہ کھولیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو تعمیرات کرنا چاہ رہا ہے اسے انتظامیہ کو پہلے سے تمام معلومات دینی ہوں گی‘۔انہوں نے کہا کہ ’جب تک ریستورانٹس تمام ایس او پیز پر عمل در آمد نہیں کریں گے انہیں بھی کھولنے کی اجازت دینی ہوگی‘۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بڑے تحمل سے ہماری بات سنی، ان سے کہا تھا کہ آپ کوئی بھی اعلان کرنے سے قبل ہماری مساجد کے بارے میں ضرور بتائیں تو انہوں نے علما سے بات کرنے کا کہا ہے۔

’عوام گھروں میں رہیں‘

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘لاک ڈاؤن کے لیے سب کے تعاون کی ضرورت ہے، دنیاوی چیزوں کو بھول جائیں اور 2 ہفتوں کے لیے گھروں پر رہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں اس وائرس سے نجات ہمیں نظر نہیں آرہی تاہم دعا ہے کہ ہم جلد اس سے باہر آجائیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ جو جوان کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلیں، انہیں تجویز دوں گا کہ گھر واپس آکر اپنے بزرگوں سے نہ ملیں، یہ بہت مشکل ہے مگر یہ مدد مجھے پوری عوام سے چاہیے‘۔انہوں نے کہا کہ ’آپ ایک زندگی بھی بچا سکے تو آپ کے سب گناہ دھل جائیں گے اور آپ سیدھے جنت میں جائیں گے‘۔سپریم کورٹ کے سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہی کہا تھا غلطیاں ہوں گی، اور غلطیاں ہوئی ہیں تاہم ہم سپریم کورٹ میں وضاحت دینے کی کوشش کریں گے‘۔

’جو معلوم ہے سب کو بتا نہیں سکتا‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کچھ دنوں پہلے یونین کونسلز کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا، وہ غلط نہیں تھا، اس پر مذاق بھی اڑایا گیا تاہم مجھے جو معلوم ہے وہ سب کو بتا نہیں سکتا تاہم جو نہیں پتہ اس پر سب سے معافی مانگتا ہوں‘۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ کے 11 یوسیز میں زیادہ کیسز سامنے آنے آئے، گلشن ٹاؤن میں 166 کیسز، جمشید ٹاؤن میں 172 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ ان ہی یوسیز میں ہلاکتوں کی شرح بھی زیادہ آئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس کو ہم بتانہیں سکے تھے، غلطی ہماری تھی تاہم وجوہات تھیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے کہنا چاہوں گا کہ ہمیں سیکٹرز پر دھیان نہیں دینا چاہیے، ہمیں جیوگرافی کو دیکھنا چاہیے، جو علاقے کلیئر ہیں انہیں بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’ایک وزارت خزانہ کی فہرست پکڑ کر کہا گیا کہ سندھ حکومت 12 ارب روپے کھا گئی، ہم نے یہ تمام رقم صحت سے متعلق کاموں پر خرچ کیے ہیں‘۔

’12 ارب صحت کے شعبے پر خرچ کیے‘

انہوں نے بتایا کہ 3 ارب کورونا ایمرجنسی فنڈ میں دیے گئے جو سرکار اور نجی شعبہ مل کر دیکھ رہا ہے، 2 کروڑ 80 لاکھ ایکسپو سینٹر میں آئیسولیشن سینٹر کی تعمیر پر خرچ کیے گئے، سکھر کے ڈپٹی کمشنر کو ہم نے فنڈز دیے، پورے سندھ میں جو اضافی خرچہ ہوا ہے وہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو 10 کروڑ روپے دینا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو بھی 8 ارب کی بات کر رہا ہے اس سے پوچھیں کہ یہ نمبر آیا کہاں سے، جو فنڈز جاری کیے سب کے سامنے کیے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’ایک ارب 8 کروڑ روپے راشن کی مد میں بانٹے ہیں، جسے اس چیز سے مسئلہ ہے کہ ان کا نام نہیں آرہا اور سڑکوں پر لوگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا لے رہے ہیں، ان کا کوئی علاج نہیں‘۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ نہیں کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں کسی چیز سے منع کیا ہے، میں ان کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور سارے صوبوں کی بات سنی‘۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا اپنا شہر ہے وہ جب چاہیں آئیں تاہم ان سے درخواست ہوگی کہ صوبے کی جانب سے جو گائیڈلائنز دی گئی ہیں اس پر خود بھی عمل کرکے دکھائیں تاکہ عوام پر مثبت اثر پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں