وبا کے دنوں میں جنوبی کوریا نے انتخابات منعقد کرکےمثال قائم کردی

منظم منصوبہ بندی کے باعث چین سے بھی جلدی کورونا وائرس پر قابو پانے والے ایشیائی ملک جنوبی کوریا نے 15 اپریل کو پہلے سے طے شدہ انتخابات کرا کر نئی تاریخ رقم کردی۔کوریا میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم دیکھا جا رہا ہے اور وہاں پر 15 اپریل کی صبح تک 11 ہزار سے بھی کم افراد کورونا سے متاثر ہوئے تھے جب کہ وہاں اس سے 260 کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں۔جنوبی کوریا نے ایک ایسے وقت میں پہلے سے طہ شدہ پارلیمانی انتخابات کرائے جب کہ دنیا بھر کے کم از کم 45 ممالک یا ریاستوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کردیا ہے۔امریکا کی تقریبا 18 ریاستوں سمیت یورپ کے متعدد ممالک، افریقی ممالک و ایشیائی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث انتخابات کو عارضی طور پر ملتوی کردیا ہے، تاہم جنوبی کوریا نے دیگر ممالک کے بر عکس وقت پر انتخابات کرا کر دوسروں کے لیے مثال قائم کردی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی حکومت نے پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر پہلے سے طے شدہ انتخابات کے لیے معمول کے مطابق صبح سے پولنگ کا آغاز کیا۔جنوبی کوریا میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ایک کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز 300 ارکان کا انتخاب کریں گے اور تقریبا 35 سیاسی جماعتوں کے ارکان قسمت آزمانے کے لیے انتخابی میدان میں اترے ہوئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 14 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے جب کہ 5 لاکھ 50 ہزار فوجی اہلکاروں کو پولنگ بوتھ پر سیکیورٹی انتظات کے لیے تعینات کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جنوبی کورین حکومت نے 15 اپریل سے قبل ہی ملک کے مختلف علاقوں میں پولنگ اسٹیشن قائم کرکے لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی تھی اور 13 اپریل سے 15 اپریل کی صبح تک 45 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز وقت سے پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔حکام نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے رجسٹرڈ ووٹرز کو خط کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرنے کی بھی اجازت دے رکھی ہے اور کئی لوگوں نے گھر بیٹھے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹ پوسٹ کردیے۔تاہم پہلے سے طے شدہ تاریخ کے مطابق 15 اپریل کی صبح 6 بجے جنوبی کوریا میں پولنگ کا آغاز کیا گیا اور اس دوران ہر ایک شخص کو کم از کم ایک میٹر کے فاصلے پر رہنے کی ہدایات کی گئیں۔پولنگ کے دوران تمام ووٹرز کو فیس ماسک پہن کر آنے سمیت پلاسٹک کے دستانے اور حفاظتی لباس پہننے کی بھی ہدایات کی گئیں اور زیادہ تر افراد حکومتی ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظامات کے بعد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے۔حکام کے مطابق حالیہ انتخابات میں 2016 کے انتخابات کے مقابلے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیادہ ہے اور پہلی بار ملک میں 18 سال کی عمر کے افراد کو پارلیمانی ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے۔پولنگ کے دوران میڈیکل عملے کو بھی تعینات کیا گیا ہے یا پھر وہاں پر سیکیورٹی کے لیے مقرر کیے گئے اہلکاروں کو ووٹرز کا بخار چیک کرنے کی تربیت دی گئی اور بخار والے ووٹرز کو الگ ووٹ کاسٹ کرنے کا کہا گیا۔خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں پارلیمنٹ کے لیے الگ جب کہ صدر کے لیے الگ انتخابات ہوتے ہیں، وہاں صدارتی انتخابات 2022 میں ہونے ہیں۔جنوبی کوریا میں پارلیمانی انتخابات ہر 4 سال بعد جب کہ صدارتی انتخابات ہر 5 سال بعد ہوتے ہیں مگر صدارتی انتخابات وقت سے قبل بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔15 اپریل کو جنوبی کوریا میں 21 ویں پارلیمانی انتخابات ہوئے جب کہ 2022 میں 21 ویں صدارتی انتخابات ہوں گے، جنوبی کوریا میں صدر ہی حکومت اور ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور اسے براہ راست عوام منتخب کرتا ہے۔جنوبی کوریا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہاں ملک کے 1948 میں قیام کے بعد کبھی انتخابات ملتوی نہیں ہوئے، وہاں پر 1955 میں کوریا جنگ کے دوران بھی انتخابات ہوئے تھے اور اب بھی کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے دنوں میں بھی وہاں انتخابات ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں