مہنگائی مزید کم ہوسکتی ہے،ضروریات پوری کرنے کے وسائل ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی میں کمی کے امکانات ہیں جبکہ اتنے مالی وسائل ہیں کہ آگے کی ضروریات پوری کرلیں گے۔نجی چینل ‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں بات کرتے ہوئے ملک کی معیشت اور زرمبادلہ کے گرتے ذخائر سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ‘ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ضرور کم ہوئے ہیں لیکن اگر یہ وبا ایک سال قبل آئی ہوتی تو اس وقت ذخائر اس سے بھی کم تھے، وبا سے قبل ہماری معیشت کی بنیادیں مضبوط ہورہی تھیں، ذخائر اور کرنسی ریٹ دیگر ممالک کے بھی کم ہوئے ہیں اس لیے ہمیں اسے عالمی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ سستے ریٹ پر قرضہ لیں، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے بھی سستے ریٹ پر قرضہ لے رہے ہیں، اتنے وسائل ہیں کہ آگے کی ضروریات پوری کرلیں گے جبکہ آگے آنے والی ری پیمنٹس کا انتظام بھی ہو جائے گا۔’شرح سود میں حالیہ کمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘کورونا کے باعث ملک میں حالات تیزی سے تبدیل ہورہے تھے جس کے باعث زری پالیسی کمیٹی نے ایک ہفتے میں دو اجلاس کیے، وبا کی وجہ سے عالمی صورتحال میں ہونے والی تیزی سے تبدیلی کے بعد پاکستان میں 225 بیسز پوائنٹس میں کمی دنیا کی دوسری سب سے بڑی کمی ہے۔’کاروباری برادری کی جانب سے شرح سود میں مزید کمی کے مطالبے سے متعلق رضا باقر نے کہا کہ ‘آنے والے دونوں میں مہنگائی کی شرح دیکھ کر شرح سود کا فیصلہ کیا جاتا ہے، کورونا وائرس کا جب معیشت پر زیادہ اثر پڑے گا تو مہنگائی کم ہوگی، پچھلے تین ماہ میں مہنگائی کی شرح بہت کم ہوئی ہے، آگے بھی اس میں کمی کے زیادہ امکانات ہیں۔بیروزگاری سے بچنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ اسکیم کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ‘کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت کو درپیش اہم مسئلہ روزگار کا ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آج اسٹیٹ بینک نے ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے کہ جو کاروباری ادارے اپنے ملازمین کی اگلے تین کی تنخواہیں برقرار رکھیں گے تو انہیں اس کے لیے 5 فیصد شرح سود پر قرض دیا جائے گا، اگر ادارہ ٹیکس دہندہ ہو تو یہ قرض 4 فیصد پر ملے گا۔’اسکیم کے پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘چھوٹے کاروبار کے لیے اس اسکیم میں زیادہ فائدہ ہے اور اگر چھوٹے کاروباری اداروں کا تنخواہوں اور اجرت کا خرچہ 20 کروڑ سے کم ہو تو وہ قرض کی صورت میں مل سکتا ہے، خرچہ 20 سے 50 کروڑ کے درمیان ہو تو 75 فیصد قرض مل سکتا ہے جبکہ 50 کروڑ سے زائد کی صورت میں 50 فیصد قرض مل سکتا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘اسکیم پر بینکوں کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور اپنے بینک سے اسکیم حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتے ہیں تو ہمیں بینکوں سے ہفتہ وار رپورٹ ملیں گی، یہ اسکیم فی الوقت 3 ماہ کے لیے ہے جس کے بعد ہم اس میں ایڈجسٹمنٹ یا توسیع کے لیے بھی تیار ہیں۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں