چین میں کتوں کے گوشت پر مکمل پابندی کی جانب پیشرفت

چین نے کتوں کے گوشت پر مکمل پابندی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس جانور کو انسانی استعمال کے مویشیوں کا حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کی جانب سے مویشیوں کی فہرست پر نظرثانی کی جارہی ہے جن کی تجارت گوشت کے لیے کی جاسکتی ہے۔چین میں جنوروں کی تجارت اور استعمال پر فروری میں نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے بعد پابندی عائد کی تھی کیونکہ یہ مانا گیا تھا کہ یہ ایک جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا تھا۔اب چین کی وزارت زراعت نے اشادہ دیا ہے کہ وہ کتوں کے گوشت کی فروخت پر مکمل پابندی کی جانب پیشرفت کررہی ہے اور اس سلسلے میں مسودہ بدھ کو جاری کیا گیا جو عوامی مشاورت کے لیے 9 مئی تک دستیاب رہے گا۔اس دستاویز میں کہا گیا کہ انسانی تہذیب میں پیشرفت اور جانوروں کے حقوق کے لیے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کتتوں کو روایتی مویشیوں سے نکال کر پالتو جانوروں میں شامل کیا جارہا ہے۔دستاویز کے مطابق دنیا بھر میں کتوں کو موشیی اور پولٹری کا حصہ نہیں تصور کیا جاتا اور چین کو بھی اس جانور کو مویشیوں اور پولٹری کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ویسے کتے اور بلیاں ماضی میں بھی مویشیوں کی باضابطہ فہرست میں شامل نہیں رہے، مگر اب پہلی بار حکومت کی جانب سے اس قسم کی بات کی گئی ہے۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب چین کے شہر یولین میں ایک فیسٹیول ہونے والا ہے جس میں اس جانور کے گوشت کو ہی کھایا جاتا ہے اور ہزاروں کتوں کو مارا جاتا ہے۔یہ 10 روزہ فیسٹیول 2009 سے ہورہا ہے اور اس پر چین اور بیرون ملک سے کافی تنقید بھی ہوتی ہے۔کتوں کے گوشت پر مجوزہ پابندی اس وقت عائد ہورہی ہے جب ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ پر کھلنے والی ہے جہان سے مانا جاتا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔مگر اب وہ جانورں کو مارنے اور زندہ جانوروں کی فروخت پر پابندی برقرار رہے گی۔سائنسدانوں اور چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک وائرس جنگلی جانوروں میں چمگادڑ سے آیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں