کورونا وائرس: ترقی پذیر ممالک کی آمدن کو 22کروڑ ڈالر کا نقصان متوقع

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس(کووڈ- 19) کے بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کی آمدن میں 220 ملین ڈالر سے زائد کے نقصان کی توقع کی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس بحران سے ترقی پذیر ممالک کو نہ صرف قلیل مدت میں صحت کے بحران بلکہ آنے والے مہینوں اور سالوں کے دوران تباہ کن معاشرتی اور معاشی بحران کے طور پر غیر متناسب طور پر متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق 55 فیصد عالمی آبادی کو معاشرتی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے، یہ نقصان معاشروں میں پھر سے پھیل کر تعلیم، انسانی حقوق کو متاثر کرے گا اور انتہائی سنگین صورتحال میں بنیادی غذائی تحفظ اور غذا بخش چیزوں کا بھی مسئلہ ہو جائے گا۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام میں کہا گیا کہ کم سہولیات کے حامل ہسپتالوں اور صحت کے ناقص نظام پر اس کے حاوی ہونے کا امکان لہے۔ اس سلسلے میں کیسز میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کم از کم ترقی یافتہ ممالک میں 75 فیصد لوگوں کو صابن اور پانی کی سہولیات کا فقدان ہے۔اضافی سماجی حالات جیسے کچھ شہروں میں شہری منصوبہ بندی اور زیادہ آبادی، فضلہ ضائع کرنے کی ناقص سروسز اور یہاں تک کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ٹریفک کی بھیڑ سمیت تمام معاملات کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے تقریاتی پروگرام کے منتظم اچیم اسٹینر نئے کہا کہ یہ وبائی بیماری صحت کا بحران ہے لیکن صرف صحت کا بحران نہیں۔ دنیا کے وسیع و عریض علاقوں میں وبائی مرض گہرے داغ چھوڑ دے گا۔انہوں نے کہا عالمی برادری کی حمایت کے بغیر ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والے فوائد لو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور اگر زندگی میں نہیں تو کم از کم حقوق، مواقعوں اور وقار کے معاملے میں پوری نسل کھو گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام مختلف ملکوں کی کورونا وائرس کے خلاف تیاری، اس سے نمٹنے اور صحتیابی میں مدد کر رہا ہےاور اس کی توجہ سب سے زیادہ کمزور اور متاثر ہونے والے ملکوں پر مرکوز ہے۔یو این ڈی پی پہلے ہی بوسنیا اور ہرزی گووینیا، چین، جبوتی، ایل سلواڈور، اریٹیریا، ایران، کرغزستان، مداغاسکر، نائیجیریا، پیراگوئے، پاناما، سربیا، یوکرین اور ویتنام سمیت متعدد ممالک میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔موجودہ وسائل سے مالی اعانت اور ابتدائی 20ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی بدولت یو این ڈی پی کی زیرقیادت COVID-19 ریپڈ رسپانس سہولت پہلے ہی شروع کی جاچکی ہے، یہ سہولت فاسٹ ٹریک میکانزم کے ذریعہ فراہم کی جارہی ہے تاکہ یو این ڈی پی کی ٹیموں کو ان کے قومی ردعمل کے لئے فوری طور پر امداد کی پیش کش کی جاسکے۔یو این ڈی پی نے تخمینہ لگا ہے کہ 100ممالک کی مدد کے لیے کم از کم 500 ملین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔یو این ڈی پی نے عالمی برادری کو کوڈ 19 کے فوری اثر سے ہٹ کر سوچنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، اس تنظیم نے تین ترجیحی کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے جس میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں امدادی وسائل، وبا کے دوران خود ہی ردعمل دینے میں مدد اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی تباہی کو روکنے کے لیے وسائل کا انتظام کرنا شامل ہے۔فوری ردعمل کے طور پر یو این ڈی پی چین اور دیگر ایشیائی ممالک کو اپنے صحت کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس میں ان کو بہت ضروری طبی سامان کی فراہمی، بیعانہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں اور صحت کے کارکنوں کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا شامل ہے۔اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام ممالک کے ساتھ مل کر کووڈ 19 کے معاشرتی اور معاشی اثرات کا جائزہ لے گا اور طویل مدتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری طور پر بحالی کے اقدامات کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں