مولانا فضل الرحمٰن کی نمازوں کے اجتماعات پر پابندی کی حمایت

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے عوام پر زور دیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نماز کی ادائیگی کے حوالے سے طبی ماہرین اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔ڈیرہ اسمٰعیل خان میں اپنی رہائش گاہ سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب ڈاکٹرز یہ تجویز دیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور متاثرہ افراد کے قریب نہیں جانا چاہیے تو عوام ان ہدایات اور ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہیں‘۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس وقت سے اپنی نقل و حرکت گھر تک محدود کی ہوئی ہے جب ملک میں کووڈ 19 کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ مولانا اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں اور ان کی جماعت کی تمام سرگرمیاں 5 اپریل تک معطل ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنے گھر کے احاطے میں قائم مسجد میں اہلِ خانہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے اس معاملے پر متفقہ رائے دی ہے کہ صرف مؤذن، امام اور مسجد انتظامیہ کے اراکین جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مسجد میں نماز کے اجتماع کے نتیجے میں وائرس پھیل سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ مسجد نہ جائیں اور گھر پر نماز ادا کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اسے عالمی وبا قرار دیا جاچکا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’اس عالمی وبا نے ہر انسان کو خدا سے رجوع کرنے پر مجبور کردیا ہے، ہمارا دین اس قسم کی غیر معمولی صورتحال میں کچھ آسانیاں دیتا ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو طبی ماہرین کی ہدایات نظر انداز نہیں کرنی چاہئیں اور غیر ضروری سرگرمیوں اور نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں عوام اپنے گھروں میں اہلِ خانہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مذہبی علما کے دیے گئے فتوے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کی بڑی مساجد مثلاً مسجد مہابت خان، درویش مسجد میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں کی تعداد خاصی کم رہی جبکہ سنہری مسجد نماز جمعہ کے لیے بند رہی۔علما حضرات کی جانب سے زور دیا گیا تھا کہ 50 سال کی عمر سے زائد یا کسی بیماری میں مبتلا افراد اور بچے اپنے گھروں میں نماز ادا کریں۔علاوہ ازیں انتظامیہ کی جانب سے مساجد جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کے بعد قبائلی ضلع باجوڑ میں لوگوں نے اپنے گھر میں نماز جمعہ ادا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں