ملک میں 3 صحافی کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، معاون خصوصی

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے 3 صحافیوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی جن میں سے 2 کا تعلق لاہور جبکہ ایک کا وزیرآباد سے ہے۔اسلام آباد میں ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ایک واٹس اپ گروپ بنا کر تمام وزیر اطلاعات یا ترجمان کو شامل کرنا تھا جسے بنا لیا گیا ہے اور اس میں صوبے اپنی اپنی تفصیلات شیئر کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے ایک میکانزم تشکیل دے دیا گیا ہے تاکہ اگر میڈیا پر کوئی غلط خبر چلے تو فوری طور پر متعلقہ صوبے کی جانب سے وضاحت سامنے آجائے اور پی آئی ڈی کے ذریعے تمام میڈیا کو آگاہ کردیا جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ میڈیا کو حقیقی معلومات دینے کے لیے سینٹرل نیوز پورٹل بنایا گیا ہے جس کا مقصد صوبوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کو مثبت طریقے سے پیش کرنا تھا تاکہ عوام میں خوف و ہراس کو کم کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ قرنطینہ یا ایسے مقامات جہاں متاثرہ مریض کی نشاندہی ہو وہاں میڈیا اور عوام کے جانے کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہٰذا اس حوالے سے سہولت دینے اور محفوظ رکھنے کے لیے پی آئی ڈی کورونا جرنلسٹ ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا اس ایپلیکیشن کا مقصد نہ صرف تحفظ فراہم کرنا بلکہ اگر کوئی صحافی کورونا سے متاثر ہوا تو اس کبھی اندراج کیا جائے گا ساتھ ہی انہوں نے 3 صحافیوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی بھی تصدیق کی۔ڈاکٹر فردوس عاشق نے بتایا کہ پورے پاکستان میں کہیں بھی کوئی صحافی یا ان کے اہلِ خانہ میں سے کوئی کورونا وائرس سے متاثر ہو تو وہ اس ایپلیکیشن کے ذریعے آگاہ کریں جس کے بعد متعلقہ صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان کی مدد کی کوشش کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور طبی عملے کو ذاتی تحفظ کا سازو سامان دیا جارہا ہے وہیں ہم نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک جرنلسٹ پروٹیکشن کٹ بنائی ہے تا کہ حساس مقامات اور قرنطینہ مراکز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مذکورہ کٹس صوبائی وزیراطلاعات تقسیم کریں گے اور صحافی ان سے رابطہ کر کے یہ کٹس حاصل کرسکتے ہیں۔مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ این سی سی کے فیصلوں پر رپورٹنگ میں انہیں اپنی مرضی کی شکل دے دی جاتی ہے اور کمیونکیشن گیپ غلط انفارمیشن کو جنم دے رہا ہے لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے تمام فیصلوں کو میڈیا کمیونکیشن پلان کے تحت عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس مقصد کے لیے وزارت اطلاعات کی جانب سے 5 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا جارہا ہے جس میں صوبے بھی اپنا حصہ شامل کرسکتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں سال فروری کے اختتام پر ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد صرف ایک ماہ میں متاثرین کی تعداد ایک ہزار 300 سے تجاوز کرچکی ہے۔ملک میں اب تک وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 11 تک پہنچ چکی ہیں جبکہ 25 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔صوبوں کی بات کی جائے تو صوبہ پنجاب اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 497 تک پہنچ چکی ہے اس کے بعد سندھ میں 440 متاثرین ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 180 اور بلوچستان میں متاثرین کی تعدا 133 تک پہنچ چکی ہے۔علاوہ ازیں گلگت بلتستان میں 107، اسلام آباد میں 39 اور آزاد کشمیر میں 2 متاثرین رپورٹ ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں