سندھ، خیبر پختونخوا میں پولیو کے مزید 8کیسز کی تصدیق

خیبر پختونخوا (کے پی) اور سندھ میں پولیو کے 8 نئے کیسز سامنے آگئے جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 33ہوگئی ہے۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پشاور سے 2 اور خیبر قبائلی علاقہ، بنوں، نوشہرہ اور لکی مروت سے ایک ایک کیسز سامنے آئے جبکہ فیصل آباد میں پولیو کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔مذکورہ 8 پولیو کیسز سے پہلے ملک میں رواں برس پولیو وائرس کے مجموعی طور پر 25 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔واضح رہے رواں ماہ 14 تاریخ کو خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر سمیت دیگر اضلاع سے مجموعی طور پر 13کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔یاد رہے کہ 27 فروری کو بھی کے پی سے پولیو کے تین کیسز سامنے آئے تھے جو پشاور، خیبر اور باجوڑ سے رپورٹ ہوئے تھے۔کے پی میں 23 فروری کو 5 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جن میں 4 خیبر اور ایک نوشہرہ سے رپورٹ ہوا تھا جبکہ پنجاب سے ایک کیس راولپنڈی میں سامنے آیا تھا۔پولیو کے کیسز کی زیادہ تعداد خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئی جہاں 8 فروری کو پشاور، خیبر اور باجوڑ سے ایک،ایک کیس کی تصدیق کی گئی تھی جو رواں برس سامنے آنے والے پہلے کیسز تھے۔واضح رہے کہ پولیو وائرس کی 3 اقسام ہیں جنہیں ٹائپ ون، ٹائپ ٹو اور ٹائپ تھری کہا جاتا ہے۔کچھ دہائیوں قبل تک ’ٹرائیویلنٹ‘ نامی ویکسین ان تینوں وائرس کی روک تھام کے لیے استعمال ہوتی تھ ی لیکن 2016 میں ٹائپ ٹو وائرس کے خاتمے کے بعد ’بیویلینٹ‘ نامی دوسری ویکسین متعارف کروائی گئی تھی جس میں صرف ٹائپ ون اور تھری وائرس ہوتے ہیں۔اس کے باوجود اچانک ٹائپ ٹو کے کیسز سامنے آرہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوبارہ ابھر سکتا ہے۔نیشنل انسٹی ٹوٹ آف ہیلتھ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں ٹائپ ٹو وائرس کے تمام کیسز ایک سے ڈھائی سال کی عمر کے بچوں میں رپورٹ ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام بچے اس وقت پیدا ہو ئے جب ٹائپ ٹو وائرس کی ویکسین کا استعمال متروک ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال 2019 میں ملک بھر سے 146 پولیو کیسز سامنے آئے تھے جبکہ 2018 میں مجموعی کیسز کی تعداد 12 اور 2017 میں صرف 8 تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں