سپریم کورٹ نے ’غیر اہم درخواست‘ جمع کرانے پر ایف بی آر پر جرمانہ عائد کردیا

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اپنے ہی محکمے کے ایک سینئر افسر کو جائز حقوق فراہم نہ کرنے اور تاخیری حربے کے طور پر متعلقہ افسر کے خلاف غیر اہم درخواست جمع کرانے پر جرمانہ عائد کردیا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ایف بی آر کی جانب سے مذکورہ درخواست محض کارروائی میں تعطل پیدا کرنا اور فریق کے جائز حق سے انکار کرکے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرنا ہے’۔بینچ نے فیڈرل سروس آف ٹریبونل (ایف ایس ٹی) کے 6 اگست 2019 کے حکم کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعہ دائر اپیل کو سنا تھا اور عدالت نے موجودہ معاملے میں فریق کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔علاوہ ازیں عدالت عظمی نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ رقم عدالت کے اضافی رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرائی جائے اور درخواست گزار محمد شریف (21 گریڈ) کو ادا کی جانے والی رقم بھی جمع کرائی جائے۔واضح رہے کہ محمد شریف ان لینڈ ریونیو سروس میں 21 گریڈ کے افسر ہیں۔محمد شریف ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) میں بطور فنانس ڈائریکٹر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد 19 گریڈ کے افسر کی حیثیت سے 15 اگست 2011 کو اسلام آباد میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں شمولیت اخیار کی تھی۔انہوں نے طریقہ کار کے مطابق آئی جے پی/ کارکردگی الاؤنس کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی جس میں محکمہ ٹیکس کی سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ انٹرویو ہونا تھا۔اس دوران درخواست گزار محمد شریف وقتاً فوقتاً محکمے کو تحریری درخواست لکھتے رہے لیکن 7 برس میں بھی ایف بی آر مطلوبہ کمیٹی تشکیل دینے میں ناکام رہا۔خیال رہے کہ مذکورہ الاؤنس سے بنیادی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے تاہم محمد شریف اس دوران احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور 21 گریڈ تک پہنچ گئے۔اس تمام معاملے پر عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران محمد شریف اعوان نے ایف بی آر پر الزام لگایا کہ محکمے کی غلطیوں کے نتیجے میں انہیں غیر قانونی کارروائیوں، تاخیر سے ہونے والے مالی نقصان اور ذہنی اذیت کی صورت میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی ریمارکیس دیے کہ درخواست گزار محمد شریف اعوان نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ 2010 میں پرفارمنس الاؤنس سے معتلق معاملے میں فیصلہ سنا چکی ہے اور ایف بی آر نے اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب عدالت عظمیٰ پہلے ہی معاملے پر فیصلہ سنا چکی ہے تو پھر محکمہ ٹیکس نے کیوں عرضی دائر کی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں