4 زبانیں بولنے والے افراد کا 40 گھروں پر مشتمل منفرد گاؤں

دنیا میں یہ عام رواج ہے کہ جب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں تو اپنی مادری زبان چھوڑکر علاقے کی اکثریتی زبان اپناتے ہیں لیکن چترال میں ایک گاؤں ایسا ہے جہاں کے باشندے کوئی 200 سال پہلے افغانستان سے آکر بس گئے لیکن اپنی مادری زبان کو نہیں چھوڑا۔انہوں نے اس علاقے میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کو سیکھا لیکن اپنے بچوں کو اپنی زبان ضرور سکھاتے رہے اور آج بھی ان کی نئی نسل اپنی مادری زبان آسانی سے بولتی ہے ۔مادری زبانوں کی اہمیت کا اندازہ ہر سال 21 فروری کو منائے جانے والے ’مادری زبانوں کے عالمی دن‘ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کیوں کہ اب عالمی ادارے بھی مادری زبانوں کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں اور ہر گزرتا دن اور تحقیقات بھی یہ ثابت کررہی ہیں کہ جو لوگ اپنی مادری زبان کو نہیں بھولتے اور دیگر زبانیں سیکھتے ہیں وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

گاؤں کے بزرگ افراد نئی نسل کو اپنی زبان سیکھنے اور بولنے کی ہدایات کرتے رہتے ہیں—فوٹو: سراج الدین
گاؤں کے بزرگ افراد نئی نسل کو اپنی زبان سیکھنے اور بولنے کی ہدایات کرتے رہتے ہیں

پاکستان میں 70 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے 50 فیصد زبانیں ملک کے شمالی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ’چترال‘ کے ’بڈوگاڑ‘ گاؤں میں شیخانی، پالولہ اور پشتو کے علاوہ وادی چترال کی بڑی زبانوں میں شمار ہونے والی کھوار (چترالی) بھی بولی جاتی ہے، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس گاؤں کے رہنے والوں کی 4 مادری زبانیں ہیں جبکہ اس گاؤں کے تعلیم یافتہ لوگ قومی زبان اردو سمیت تھوڑی بہت انگریزی بھی سمجھتے ہیں۔مذکورہ گاؤں کی آبادی بمشکل 800 افراد پر مشتمل ہے اور یہ گاؤں وادی چترال کے جنوبی حصے میں مشہور نغر قلعہ کے بالمقابل آباد ہے۔

دریاؤں اور پہاڑوں کے دامن میں واقع گاؤں کے لوگ محبتی بھی ہیں—فوٹو: سراج الدین
دریاؤں اور پہاڑوں کے دامن میں واقع گاؤں کے لوگ محبتی بھی ہیں

اس گاؤں کے تمام لوگ اپنے گھروں میں اپنی اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں اور دوسری کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے کھوار، پشتو اور پلولہ زبانوں کا استعمال کرتے ہیں جب کہ اس گاؤں کے بچے دوران تعلیم اور زبانیں بھی سیکھتے اور پڑھتے ہیں۔چترال سے تعلق رکھنے والے محقق فخرالدین جو ’ایف ایل آئی‘ نامی ایک فلاحی ادارہ بھی چلاتے ہیں وہ پاکستان کے اس منفرد گاؤں کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’اس گاؤں کو آباد کرنے والے 2 بھائی ہیں جو 7 نسل تقریباً (ڈیرھ سو سال) پہلے افغانستان کے علاقے نورستان سے یہاں آکر آباد ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کی آنے والی نسلوں نے اپنی زبان کو نہیں چھوڑا بلکہ ضرورت کے مطابق دوسری زبانیں سیکھتے گئے اور آج ان لوگوں کو 4 مختلف زبانوں پر عبور حاصل ہے۔یقیناً پاکستان میں بڈو گاڑ گاؤں وہ واحد گاؤں نہیں ہوگا جہاں کے رہنے والے بیک وقت 4 سے 5 زبانوں سے واقف ہیں تاہم آبادی کے حوالے سے یہ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس حوالے سے منفرد ضرور ہے۔

بڈو گاڑ گاؤں 150 سے 200 سال قبل آباد ہوا، محقق فخر الدین—فوٹو: سراج الدین
بڈو گاڑ گاؤں 150 سے 200 سال قبل آباد ہوا، محقق فخر الدین

ایک محتاط اندازے کے مطابق بڈوگاڑ گاؤں کی طرح پاکستان بھر میں 70 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے کئی زبانیں ایسی بھی ہیں جن کے بولنے والے افراد کی تعداد انتہائی کم ہے تاہم پھر بھی پاکستان کی بہت ساری زبانیں غیر محفوظ نہیں ہیں۔بدلتے وقت اور لوگوں کی جانب سے ایک سے دوسری جگہ منتقلی کے باعث دنیا بھر کی کئی ایسی زبانیں ہیں جو انتہائی خطرے میں ہیں اور اقوام متحدہ آنے والی چند دہائیوں یں ایسی زبانوں کے بالکل ختم ہونے کا عندیہ دے چکا ہے۔مادری زبانوں کا عالمی دن پاکستان میں بسنے والے ہر زبان بولنے والے افراد کے لیے یہ پیغام لایا ہے کہ اپنی مادری زبان سے نفرت نہیں بلکہ اس پر فخر کیا جانا چاہیے۔

800 افراد کی آبادی پر مشتمل گاؤں کا کوئی خاص ذریعہ معاش نہیں—فوٹو: سراج الدین
افراد کی آبادی پر مشتمل گاؤں کا کوئی خاص ذریعہ معاش نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں