مشکل وقت سے نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ آسان زندگی آگئی، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے مشکل وقت سے نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ آسان زندگی آگئی بلکہ ابھی آگے بڑے چیلنجز ہیں۔عمران خان نے صوبہ پنجاب کے علاقے لیہ میں احساس آمدن پروگرام کا افتتاح کیا، اس موقع پر تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے ملک میں جو ترقی ہوئی اس میں امیر، امیر تک اور غریب، غریب تر ہوتا گیا اور ان میں فاصلہ بڑھتا گیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ اس نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور یہی ہمارا پاکستان کے لیے خواب ہے، اسی کے لیے یہ احساس پروگرام ہے جس کا مقصد نچلی طبقے کو اوپر اٹھانا ہے۔تحریر جاری ہے‎انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ خواتین کو ایک، گائیں، ایک بھینس اور تین بکریاں دیں گے تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں، اس کے علاوہ ہر مہینے 80 ہزار لوگوں کو سود کے بغیر قرضے دیے جائیں گے جبکہ نوجوانوں کو ہر سال 50 ہزار اسکالرشپس دی جائیں گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم پورے پاکستان میں پناہ گاہ بنا رہے ہیں، وہ لوگ جو سڑکوں پر سوتے ہیں ان کے لیے یہ پناہ گاہ بنائیں گے تاکہ ایسے لوگ وہاں رات گزار سکیں اور ان کو کھانا مفت ملے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک 180 پناہ گاہیں بن چکی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ملک میں کوئی آدمی سڑک پر نہ سوئے۔ایک نئے قانون سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایک نیا قانون لارہے ہیں تاکہ وہ غریب جو وکیل نہیں کرسکتے انہیں حکومت وکیل کرکے دے گی تاکہ اسے عدالت سے انصاف مل سکے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 60 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ ملے گا جبکہ ہم نے ہسپتال بنانے اور اس کی مشینری کی درآمدات پر تمام ڈیوٹیز ختم کردی ہیں۔اسکولز اور تعلیمی نظام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پرانے بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کر رہے جبکہ ایک نصاب کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ سب ایک نصاب سے تعلیم حاصل کرسکیں، اگرچہ یہ مشکل ہے کیونکہ ہم نے 70 برسوں میں اسے بگاڑا ہے جسے ٹھیک کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں غیرحاضر رہنے والے اساتذہ کے لیے سزا و جزا کا نظام لارہے ہیں تاکہ وہ استاد جو نہیں آتے انہیں باہر نکالا جائے۔تھانہ کچہری کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کا نیا نظام لانا چاہتے ہیں اور میں نے نئے آئی جی کو کہا ہے کہ چھوٹے نہیں بلکہ بڑے بدمعاشوں کو پکڑیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ بڑی قومی تباہ ہوئیں جہاں کمزور کے لیے الگ اور طاقت ور کے لیے الگ انصاف کا نظام ہو۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ قومی تباہ ہوجاتی ہیں جب چھوٹے چوروں کو پکڑو اور بڑے چور ایوانوں میں گھومیں، لندن جائیں اور بڑے گھروں میں رہے، ہم وہ نظام چاہتے ہیں جو بڑے ڈاکوؤں و قاتلوں کو پکڑے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم مقروض ملک تھے اور بڑے قرضے واپس کرنے تھے اور اگر ہم سابق حکومتوں کے لیے گئے قرض واپس نہیں کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا اور مہنگائی مزید دوگنا ہوجاتی۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک مشکل وقت سے نگل گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آسان زندگی آگئی ہے بلکہ ابھی بڑے چیلنجز ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک صحیح راستے پر گامزن ہے، ایک سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 فیصد کم ہوا، روپے کی قدر بہتر ہوئی ہے، بیرون ملک سے سرمایہ کاری شروع ہوگئی ہے اور آنے والے دنوں میں آپ کو خوش خبری ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں