خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کی منظوری

وزیراعظم عمران خان نے خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل فار پاکستان تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دفتر کے مطابق وزارت قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس تعیناتی کے لیے آج ہی سمری ارسال کرے۔واضح رہے کہ اس تعیناتی کی منظوری سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کے کچھ اراکین پر الزامات لگائے تھے جس کے بعد وہ گزشتہ روز مستعفی ہوگئے تھے۔تحریر جاری ہے‎اپنا استعفیٰ دیتے وقت انور منصور خان نے کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے مطالبے پر استعفیٰ دیا تاہم وزارت قانون کے مطابق ان سے استعفیٰ لیا گیا۔اگر خالد جاوید کی بات کی جائے تو وہ سینئر سیاست دان این ڈی خان کے بیٹے ہیں، ان کے والد پیپلز پارٹی کے دوسرے دورے حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔خالد جاوید نے 1991 میں خود کو ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر انرول کروایا اور پھر 2004 میں سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بنے، اس کے علاوہ وہ اٹارنی جنرل کے لیے قانونی مشیر بھی رہے جبکہ 1993 سے 1996 تک بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وہ ان کے مشیر بھی رہے۔ساتھ ہی وہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ 1995 سے 1996 تک نجکاری کمیشن پاکستان کے رکن بھی رہے۔انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، اس کے علاوہ انہوں نے اوکسفورڈ یونیورسٹی سے بی سی ایل (بیچلر آف سول لا) کی ڈگری لی، جس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا اور لنکولن ان سے بار ایٹ لا کیا۔خالد جاوید سینئر ایڈووکیٹ ہیں جو سپریم کورٹ میں مختلف کیسز میں پیش ہوچکے ہیں جبکہ 2013 میں وہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

انور منصور کے استعفے کا پس منظر

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر 18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلا جواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا کہ جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلا جواز’ تھا۔ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔تاہم اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا جس کے ساتھ ہی عدالت نے میڈیا کو بیان شائع کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ بعدازاں یہ رپورٹ ہوا تھا کہ ’اٹارنی جنرل اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے تھے‘۔بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔ساتھ ہی پاکستان بار کونسل نے ایک بیان میں اٹارنی جنرل سے غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ‘غیر معمولی طرز عمل’ پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں