ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کو مزید 4 ماہ کی مہلت ملنے کا امکان

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اپنے 27 نکات پر مکمل عملدرآمد کرنے اور گرے لسٹ سے اخراج کے لیے پاکستان کو مزید 4 ماہ (جون تک کا) وقت دینے کے لیے تیار ہے۔ باخبر ذرائع نے فرانس کے شہر پیرس سے ڈان کو بتایا کہ ورکنگ گروپ اجلاس میں ایکشن پلان کے حوالے سے پاکستان کی بہتر ہوتی کارکردگی کو سراہا گیا لیکن چند دوست ممالک کے سوا تمام اراکین نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ہم اب تک کی پیشرفت سے مطمئن ہیں اور ہمارے لیے بلیک لسٹ ہونے کا کوئی معاملہ نہیں‘۔واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 16 سے 21 فروری تک جاری رہنے والا اجلاس مکمل ہونے کے بعد ایک باضابطہ بیان آج (بروز جمعہ) جاری کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔تحریر جاری ہے‎ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر ریونیو حماد اظہر کررہے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ 27 نکاتی پلان میں سے نصف سے زائد اہداف پر پاکستان نے مکمل طور پر عمل کیا ہے یا وہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھتے ہوئے جون 2020 تک مکمل عملدرآمد کر کے ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کو دور کرے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔خیال رہے کہ بقیہ اہداف کی تیزی سے تعمیل کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) اور وزارت داخلہ میں بدھ اور جمعرات کو یکے بعد دیگرے 2 اجلاس ہوئے اور تعمیلی حکمت عملی پیرس میں موجود پاکستانی وفد کو فراہم کی گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایکشن پلان کے تحت بقیہ نکات پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے آئندہ ہفتوں میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس اے سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں اجلاس بلائے گئے ہیں۔یاد رہے کہ ایف اے ٹی اے کے پلانری گروپ نے انسداد منی لانڈرنگ/دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عمل میں پائی گئی ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔اس اقدام کو بھارت، امریکا اور برطانیہ کے علاوہ کچھ دیگر یورپی ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔جس کے بعد پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے فراہم کردہ 27 نکاتی ایکشن پلان پر زیادہ سے زیادہ عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن مقررہ مدت تک اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا۔علاوہ ازیں رواں برس جون تک ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے پاکستان نے تقریباً ایک درجن قوانین میں بڑی ترامیم کو حتمی شکل دے دی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مزید 12 سے 13 قوانین اور ذیلی قوانین کو اپ گریڈ کرنے کے لیے قانون سازی کے اہداف بھی طے کرلیے گے ہیں تا کہ پورے قانونی ڈھانچے کو ایف اے ٹی ایف کے معیار کے مطابق کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں