23 کروڑ سال پرانے ڈائنوسار کے شکاری 'مگرمچھ' کی ہڈیاں دریافت

برازیل میں سائنسدانوں نے 23 کروڑ سال پرانے ایسے خوفناک جانور کی ہڈیاں دریافت کرلیں جو اس دور میں ڈائنوسار کا شکار کیا کرتے تھے۔فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس خونخوار جانور کی ہڈیوں کو آج کے مگرمچھ کی قدیم شکل قرار دیا ہے جبکہ اس کا شمار اس دور کے ٹی ریکس ڈائنوسار (سب سے خطرناک ڈائنوسار) میں بھی کیا جارہا ہے۔

'ڈائنامو سوکس کولیسنسز' کی دریافت ہونے والی پہلی ہڈی — فوٹو: فاکس
‘ڈائنامو سوکس کولیسنسز’ کی دریافت ہونے والی پہلی ہڈی — فوٹو: فاکس

برازیل میں ہونے والی اس دریافت نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا اور اس دریافت کو ‘ڈائنامو سوکس کولیسنسز’ کا نام دیا گیا ہے۔سائنسدان اس دریافت کو ڈائنوسار کے دور کا سب سے خطرناک جانور قرار دے رہے جو دوسرے جانور اور ڈائنوسار کو چیرپھاڑ کر مار دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔محقق روجریگو میولر کے مطابق یہ جانور اپنی 4 ٹانگوں کی مدد سے چل سکتا تھا جبکہ صرف پچھلے پیروں کا استعمال کرکے دوڑ بھی سکتا تھا۔اس جانور کے منہ میں گوشت کھانے اور دوسرے جانوروں کو چیڑ پھاڑ کر مار دینے کیلئے تیز دھار دانت بھی موجود تھے۔

سائنسدانوں نے اس جانور کو سب سے خطرناک دائنوسار قرار دیا — فوٹو: فاکس نیوز
سائنسدانوں نے اس جانور کو سب سے خطرناک دائنوسار قرار دیا — فوٹو: فاکس نیوز

تحقیق کے مطابق خونخوار ہونے کے باوجود مرے ہوئے جانور اس کی غذا بنتے کیوں کہ اس کی کھانے کی رفتار دھیمی تھی۔مضبوط جسامت ہونے کے باوجود دیگر ڈائنو سار کی طرح یہ جانور بھی ناپید ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں