نوکری چھوڑنے والی لڑکی نے آن لائن تصویریں فروخت کرکے لاکھوں روپے کمالیے

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے جدید دور میں کئی ایسے آن لائن کام شروع ہوگئے ہیں جنہیں کوئی بھی شخص گھر بیٹھے کرکے اپنی کمائی میں اضافہ کر سکتا ہے۔آن لائن سفری سہولیات، آن لائن فوڈ ڈیلیوری، فروٹ و سبزی ڈیلیوری سمیت آن لائن فری لانس کے کام ان چند معمولات میں سے ایک ہیں جن کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنی کمائی میں اضافہ کر سکتا ہے۔اور ایسے ہی آن لائن ٹول کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی ریاست انگلینڈ کی 21 سالہ لڑکی نے محض 15 دن میں پاکستانی 25 لاکھ روپے سے زائد کی کمائی کرلی۔جی ہاں، انگلینڈ کے شہر لیڈز کی 21 سالہ یونیورسٹی کی طالبہ لینی ہولمس نے محض 15 دن میں اپنی تصاویر کو فروخت کرکے پاکستانی 25 لاکھ روپے سے زائد کی کمائی کرلی۔عرب ویب سائٹ ’البوابا‘ کے مطابق لینی ہولمس آن لائن تصویروں کو فروخت کرنے سے قبل خواتین کے مہنگے اور پرتعیش زیر جامہ برانڈ ’وکٹوریا سیکریٹ‘ میں ملازمت کرتی تھیں۔تاہم ملازمت کے دوران ہی انہوں نے 2 ہفتے قبل ایک ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر اپنی تصاویر اپ لوڈ کیں اور ان تصاویر کے بدلے انہوں نے پیسے لینا شروع کیے۔تصاویر اپ لوڈ کرنے کے محض 2 ہفتے بعد لینی ہولمس نے 15 ہزار یورو یعنی پاکستانی 25 لاکھ روپے سے زائد کی کمائی کی جس کے بعد انہوں نے ہفتہ وار 30 گھنٹے تک کام کرنے والی نوکری چھوڑ دی۔

لینی ہولمس کے مطابق وہ مستقبل میں صحافی بننے کی خواہاں ہیں—فوٹو: مرسری پریس
لینی ہولمس کے مطابق وہ مستقبل میں صحافی بننے کی خواہاں ہیں

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 21 سالہ لینی ہولمس ماس یونیورسٹی میں کمیونیکیشن کے شعبے کی طالبہ ہیں اور مستقبل میں وہ صحافی بننا چاہتی ہیں۔لینی ہولمس نے بتایا کہ جیسے ہی دو ہفتے قبل انہوں نے ’اونلی فینز‘ نامی ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنایا انہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنی تصاویر اپ لوڈ کردیں اور ان تصاویر کے بدلے انہیں پیسے ملنا شروع ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویب سائٹ آن لائن تصاویر اور ویڈیوز فروخت کرنے کے عوض معاوضہ فراہم کرتی ہیں اور کم سے کم ہر صارف کو ماہانہ 10 یورو ادا کرنے پڑتے ہیں جس کے عوض اسے ویب سائٹ پر موجود تمام تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی دی جاتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ ویب سائٹ اضافی پیسے فراہم کرنے والے صارف کو کسی بھی اکاؤنٹ ہولڈر کی خصوصی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔یہ ویب سائٹ تمام مرد و خواتین کو اپنی نیم عریاں، بولڈ اور فیشن ایبل تصاویر و ویڈیوز فروخت کرنے کے عوض رقم ادا کرتی ہے۔لینی ہولمس مذکورہ ویب سائٹ پر اپنی بولڈ اور نیم عریاں تصاویر رکھنے کو غلط نہیں سمجھتیں اور وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ وہ کوئی غلط کام کر رہی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ محض 2 ہفتوں میں اپنی چند عریاں اور بولڈ تصاویر اپ لوڈ کرکے 15 ہزار یورو کمانے والی لڑکی نے ملازمت چھوڑنے کے بعد مستقل طور پر مذکورہ ویب سائٹ پر خصوصی ویڈیوز اور تصاویر کو فروخت کرنے کے کام کا آغاز کردیا۔

لینی ہولمس نے وکٹوریہ سیکریٹ کی ملازمت چھوڑ دی—فوٹو: مرسری پریس
لینی ہولمس نے وکٹوریہ سیکریٹ کی ملازمت چھوڑ دی

اپنا تبصرہ بھیجیں