وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے دوبارہ 3 نام تجویز کر دیے

وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے چیئرمین کے لیے 3 سابق وفاقی سیکریٹریوں کے نام تجویز کر دیے۔وزیر اعظم ہاؤس سے جاری قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے نام خط میں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے 4 دسمبر 2019 کو جاری کیے گئے گزشتہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 213 کی شق 2 ‘اے’ کے تحت تین نام دیے گئے تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘بامعنی اور نتیجہ خیز مشاورت اور طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کو دیگر کوششوں سے حل کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے لیے ازسرنو پینل تجویز کر رہا ہوں’۔شہباز شریف کے نام لکھے گئے خط میں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے جو 3 نام تجویز کیے ہیں ان میں ‘سابق وفاقی سیکریٹری جمیل احمد، سابق وفاقی سیکریٹری فضل عباس مکین اور سابق وفاقی سیکریٹری سکندر سلطان راجا’ شامل ہیں۔یاد رہے کہ 5 دسمبر 2019 کو سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان اپنی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد 6 دسمبر کو جسٹس (ر) الطاف ابراہیم نے قائم مقام الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔وزیراعطم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے 4 دسمبر کو بھی 3 نام تجویز کیے تھے جن میں فضل عباس مکین بھی شامل تھے اور ایک مرتبہ پھر ان کا نام دیا گیا ہے، گزشتہ تجویز میں ان کے علاوہ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح اور عارف خان کے نام شامل تھے۔فضل عباس مکین سابق وفاقی سیکریٹری ہیں اور سیکریٹری کے طور پر مختلف وزارتوں میں کام کر چکے ہیں۔دوسری جانب شہباز شریف نے دسمبر کے اوائل میں وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں ناصر سعید کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کیے تھے۔قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ‘میری دانست میں یہ ممتاز شخصیات اس منصب کے لیے نہایت مناسب اور اہل ہیں لہٰذا آپ مزید تاخیر کے بغیر چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے یہ 3 نام زیر غور لائیں’۔شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے علاوہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو بھی خط ارسال کیا تھا۔آئین کی دفعہ 213 کی شق نمبر 2 کے تحت وزیراعظم، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد پارلیمانی کمیٹی کو چیف الیکشن کمشنر کے تقرر یا سماعت کے لیے نام بھجواتا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کا سپریم کورٹ سے رجوع

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سمیت متحدہ اپوزیشن نے 4 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر اور سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری کے معاملے پر حکومتی کمیٹی سے عدم اتفاق کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے 2 ارکان بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، جن کی تعیناتی کے لیے بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ‘5 دسمبر 2019 کو چیف الیکشن کمشنر کی معیاد ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان غیر فعال ہوجائے گا جس کے باعث ملک کا پورا انتخابی نظام رک جائے گا’۔اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ‘اراکین اور الیکشن کمشنر کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے جو ملک میں آئینی بحران کا باعث ہوگا’۔درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘اراکین و چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر اتفاق رائے یا مسئلے کے حل کے لیے آئینی ترمیم میں ناکامی پر واحد حل معزز عدالت سے رجوع تھا’۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ‘2 اراکین کی مدت 26 جنوری 2019 ختم ہوگئی تھی لیکن الیکشن کمیشن اب تک فعال ہے کیونکہ چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین موجود تھے لیکن مستقبل قریب میں حالات بالکل مختلف ہوں گے’۔متحدہ اپوزیشن نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ ‘مذکورہ حالات کے پیش نظر عدالت سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ آئینی بحران کے خاتمے کے لیے مناسب حکم جاری کرے جو چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہوتے ہی 5 دسمبر 2019 کے بعد پیش آئے گا’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں